بٹ کوائن ڈیپوٹ، شمالی امریکہ کی سب سے بڑی بٹ کوائن اے ٹی ایم آپریٹر کمپنی، نے چپٹر 11 دیوالیہ پن کی درخواست دائر کر دی ہے۔ کمپنی نے اپنی تمام سرگرمیاں بند کرنے اور اثاثے فروخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کمپنی کے اسٹاک کی قیمت میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی، جو مارکیٹ میں شدید ہلچل کا باعث بنی۔ کمپنی نے اپنی تمام 9,000 سے زائد اے ٹی ایم مشینیں بند کر دی ہیں جو 47 ریاستوں میں کام کر رہی تھیں۔
کمپنی کے سی ای او نے کہا کہ سخت ہوتی ہوئی ریگولیٹری پابندیاں اور ریاستوں کی جانب سے اے ٹی ایم آپریشنز پر پابندیاں اس بحران کی بنیادی وجہ ہیں۔ انڈیانا، ٹینیسی، اور منیسوٹا جیسی ریاستوں نے بٹ کوائن اے ٹی ایم پر پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے کمپنی کی کاروباری ماڈل غیر مستحکم ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ایف بی آئی کی جانب سے کریپٹو اے ٹی ایم فراڈ کی شکایات میں اضافہ بھی کمپنی کی مالی مشکلات میں اضافہ کا باعث بنا۔
کمپنی کی مالی حالت پہلے ہی خراب ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے اسے اپنی مالی رپورٹس جمع کرانے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں کمپنی کی آمدنی میں نصف سے زائد کمی اور خالص منافع میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، قانونی مقدمات اور جرمانے بھی کمپنی کے مالی دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر، بٹ کوائن ڈیپوٹ کی دیوالیہ پن کی درخواست کریپٹو کرنسی کے ریٹیل سیکٹر میں ایک نمایاں واقعہ ہے، جو اس صنعت میں بڑھتی ہوئی ریگولیٹری مشکلات اور مالی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ مستقبل میں، اس شعبے میں مزید پابندیوں اور مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے صارفین اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine