سینیٹ بینکنگ کمیٹی نے ڈیجیٹل اثاثہ مارکیٹ کلیرٹی ایکٹ کو 15-9 ووٹ سے آگے بڑھا دیا ہے، جس میں دو ڈیموکریٹس نے پارٹی کی صفوں سے اختلاف کرتے ہوئے تمام 13 ریپبلکنز کے ساتھ ووٹ دیا۔ یہ بل امریکی سینیٹ میں ڈیجیٹل اثاثہ جات، اسٹیبل کوائنز اور ثالثوں کے لیے وفاقی فریم ورک بنانے کی کوشش ہے، جس میں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) اور کمموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کے درمیان نگرانی تقسیم کی جائے گی۔ اس کا مقصد صارفین کا تحفظ، امریکی جدت کو برقرار رکھنا اور مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
کمیٹی کی چیئرپرسن ٹم اسکاٹ نے کہا کہ یہ بل کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک اہم موڑ ہے، جو پرانی قواعد کے تحت چلنے والے ایک غیر واضح ضابطہ کار کو ختم کرے گا۔ اس کے برعکس، ڈیموکریٹک رکن الزبتھ وارن نے اس بل کی مخالفت کی اور اسے کرپٹو انڈسٹری کی حمایت یافتہ قرار دیا، جس سے سرمایہ کاروں کے تحفظات متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل امریکی صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے دروازے کھولتا ہے۔
یہ بل اب سینیٹ کے فل فلور پر پیش کیا جائے گا جہاں اس کے مزید مراحل طے ہوں گے۔ اس قانون سازی کے ذریعے کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور ضابطہ کاری کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں، تاہم اس پر سیاسی اختلافات اور سیکورٹی خدشات بھی موجود ہیں۔ آئندہ اس بل کی منظوری یا ترامیم کرپٹو مارکیٹ کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہوں گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine