امریکہ کی سینیٹ بینکنگ کمیٹی نے ڈیجیٹل اثاثہ مارکیٹ کلیرٹی ایکٹ پر 100 سے زائد ترامیم پیش کی ہیں، جو جمعرات کو ہونے والے مارک اپ ووٹ کے لیے زیر بحث آئیں گی۔ یہ بل کریپٹو کرنسی کے ضوابط میں اہم تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ اس بل کا مقصد سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کے درمیان واضح حدود قائم کرنا ہے۔ ترامیم میں خاص طور پر اسٹیبل کوائنز کے ییلڈ پروڈکٹس پر بحث شامل ہے، جہاں بینکنگ گروپس ان کو روایتی بینک ڈپازٹس کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں جبکہ کریپٹو فرمیں ان کو لیکویڈیٹی اور صارفین کی سرگرمی کے لیے ضروری قرار دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، سینٹرز نے سینئر حکومتی عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کو کریپٹو کاروبار میں سرمایہ کاری یا پروموشن سے روکنے کی تجویز بھی دی ہے، جو سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ اس بل کی منظوری سے امریکی کریپٹو مارکیٹ میں ریگولیٹری فریم ورک میں واضح تبدیلیاں آئیں گی، جو سرمایہ کاروں اور صارفین کے لیے نئے مواقع اور چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس بل پر ہونے والے ووٹ اور ترامیم کی منظوری مارکیٹ کے مستقبل کا تعین کرے گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine