امریکی سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی نے 309 صفحات پر مشتمل کرپٹو مارکیٹ بل پیش کر دیا

امریکی سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی نے ایک تفصیلی بل، جس کا نام ڈیجیٹل اثاثہ مارکیٹ کلیرٹی ایکٹ ہے، جاری کیا ہے جس میں کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے ڈھانچے کو منظم کرنے کے لیے متعدد اصول وضع کیے گئے ہیں۔ یہ بل 309 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد صارفین کی حفاظت، غیر قانونی مالیات کی روک تھام، اور مالیاتی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ بل میں خاص طور پر اسٹیبل کوائنز کے حوالے سے اہم شق شامل ہے جو اسٹیبل کوائن بیلنس پر سود کی ادائیگی کو محدود کرتی ہے، تاکہ بینکنگ نظام کے استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس بل کی منظوری سے امریکی کرپٹو مارکیٹ میں قانونی وضاحت آئے گی اور سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم ہوگا۔ تاہم، بینکنگ انڈسٹری کی جانب سے اس کے بعض پہلوؤں پر اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں، خاص طور پر اسٹیبل کوائنز کے سود کی پابندی کے حوالے سے۔ آئندہ دنوں میں سینیٹ میں اس بل پر بحث اور منظوری کا عمل جاری رہے گا، جس سے مارکیٹ پر اس کے اثرات واضح ہوں گے۔ اس قانون سازی سے کرپٹو کرنسی کے شعبے میں شفافیت اور ضابطہ کاری میں اضافہ متوقع ہے، جو صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: