بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ نئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کی بدولت سائبر حملے عالمی مالیاتی نظام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ سائبر سیکیورٹی کو مالی استحکام کے بنیادی مسائل میں شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ اب غیر ماہر حملہ آور بھی اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس پیش رفت سے عالمی مالیاتی اداروں اور مارکیٹوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ مالیاتی نظام کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر موثر حفاظتی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو مالیاتی نظام میں خلل پڑنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومتوں اور مالیاتی اداروں کو مل کر سائبر سیکیورٹی کے معیارات کو بہتر بنانے اور جدید خطرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt