نئی تحقیق کے مطابق، بٹ کوائن اور ایتھیریم جیسے معروف کرپٹو کرنسیاں کوانٹم کمپیوٹنگ کی ترقی کی وجہ سے 2030 تک ایک سنگین خطرے کا سامنا کر سکتی ہیں۔ یہ خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوانٹم کمپیوٹرز اتنے طاقتور ہو جائیں کہ وہ موجودہ کرپٹو نیٹ ورکس کی سیکیورٹی کو توڑ سکیں۔ اس صورتحال میں، اگر کرپٹو نیٹ ورکس نے خود کو اس خطرے سے بچانے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے تو صارفین کے اثاثے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ مارکیٹ میں اس قسم کے خطرات کی موجودگی سرمایہ کاروں اور صارفین کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ کرپٹو کرنسیوں کی ساکھ اور استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔ مستقبل میں، کرپٹو نیٹ ورکس کو کوانٹم محفوظ پروٹوکولز اپنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اس نئے چیلنج کا مقابلہ کر سکیں۔ اس حوالے سے تحقیق اور ترقی کی رفتار مارکیٹ کے لیے اہم ہوگی تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt