کیون او لیری نے وال اسٹریٹ پر ٹوکنائزیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ایک اہم موضوع قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ امریکی کرپٹو قوانین اور تعمیل کے واضح معیارات کے بغیر ادارہ جاتی سرمایہ کار اسے بہت زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹوکنائزیشن کے ذریعے مالیاتی اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کرنا ایک جدید تصور ہے، لیکن اس کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اس وقت، امریکی کرپٹو قوانین کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ اس صورتحال کا فوری اثر یہ ہے کہ وال اسٹریٹ پر ٹوکنائزیشن کی ممکنہ صلاحیتوں کا پورا فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ مستقبل میں، اگر امریکی قانون ساز ادارے کرپٹو کرنسیوں اور ٹوکنائزیشن کے حوالے سے واضح اور جامع قوانین نافذ کرتے ہیں تو یہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے اور مالیاتی نظام میں شفافیت اور حفاظت کو فروغ دے سکتا ہے۔ تاہم، قوانین کی غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے اور ٹوکنائزیشن کا عمل محدود رہ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk