مورگن اسٹینلی نے حال ہی میں پہلا بینک جاری کردہ بٹ کوائن ای ٹی پی متعارف کرایا ہے، جو کرپٹو کرنسی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم، کمپنی کی نمائندہ ایمی اولڈنبرگ نے واضح کیا ہے کہ مشیران، ریگولیٹرز اور بینکوں کے بیلنس شیٹس ابھی اس نئی مالیاتی مصنوعات کو مکمل طور پر قبول کرنے کے مرحلے میں نہیں پہنچے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ بٹ کوائن کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، لیکن اسے روایتی مالیاتی نظام میں مکمل طور پر ضم ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔ اس پیش رفت کے فوری اثرات میں سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہونا شامل ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ریگولیٹری چیلنجز اور مالیاتی اداروں کی محتاط رویہ بھی دیکھنے کو ملے گا۔ مستقبل میں، اگر یہ رجحان جاری رہا تو ممکن ہے کہ امریکی بینکوں کے بیلنس شیٹس میں بٹ کوائن کی موجودگی بڑھ جائے، جو کرپٹو کرنسی کی قبولیت اور استحکام کے لیے مثبت قدم ہوگا۔ تاہم، اس عمل میں قانونی اور مالیاتی پیچیدگیوں کا سامنا رہنے کا امکان بھی موجود ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk