برطانیہ کی اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کی ابتدائی جانچ کے مطابق، این تھروپک کلاؤڈ مائتھوس ایک ممکنہ بڑا سائبر سیکیورٹی خطرہ بن سکتا ہے۔ اس نئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ نظام ہیکرز یا دیگر نقصان دہ عناصر کے لیے دروازہ کھول سکتا ہے۔ مارکیٹ میں اس خبر کے بعد سیکیورٹی ماہرین اور ادارے اس مسئلے پر گہری نظر رکھ رہے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔ صارفین اور کاروباری اداروں کو بھی اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کے ممکنہ نقصانات کو محدود کیا جا سکے۔ اس ضمن میں مزید تحقیق اور نگرانی جاری رہے گی تاکہ مارکیٹ اور صارفین کو محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt