ٹائیگر ریسرچ کی ایک حالیہ تحقیق میں نو ممالک میں کیے گئے جائزے کے مطابق، بینک، بینکنگ ایپس اور بٹ کوائن ای ٹی ایف ایشیا میں کرپٹو کرنسی ایکسچینجز پر نمایاں دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ خاص طور پر جنوبی کوریا میں تجارتی سرگرمیوں میں کمی اور روایتی مالیاتی ایپس کی سہولت نے صارفین کو کرپٹو مارکیٹ سے ہٹ کر روایتی مالیاتی نظام کی طرف راغب کیا ہے۔ اس تبدیلی کے باعث کرپٹو ایکسچینجز کو اپنی خدمات میں بہتری لانے اور صارفین کو برقرار رکھنے کے لیے مزید جدت پسندی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ایشیا کی کرپٹو مارکیٹ میں حجم میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے مارکیٹ کی لیکویڈیٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں کرپٹو ایکسچینجز کو صارفین کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرنی ہوں گی تاکہ وہ روایتی مالیاتی نظام کے مقابلے میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance