گزشتہ ہفتے کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں نمایاں کمی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کل مارکیٹ کیپٹلائزیشن 14.5 فیصد گھٹ کر 2.13 ٹریلین ڈالر رہ گئی۔ اس دوران ہفتہ وار تجارتی حجم 117 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو اوسط سے 47 فیصد زیادہ تھا۔ بٹ کوائن کی ہفتہ وار تجارتی حجم 47.3 ارب ڈالر رہی جو اوسط سے 61 فیصد زائد ہے جبکہ ایتھیریم کی تجارتی حجم 23.2 ارب ڈالر رہی جو اوسط سے 77 فیصد زیادہ ہے۔ مارکیٹ میں فروخت کی وجہ زیادہ تر لیوریجڈ ٹریڈرز کو سمجھا جا رہا تھا لیکن رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر فروخت اسپاٹ مارکیٹ سے ہوئی ہے۔ ڈیریویٹیوز کی پوزیشننگ میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، بٹ کوائن کے فنڈنگ ریٹس 5.7 فیصد تک پہنچ گئے جبکہ فیوچرز اوپن انٹرسٹ 3.5 ارب ڈالر کم ہو کر 21 ارب ڈالر رہ گئی۔ ایتھیریم کے فنڈنگ ریٹس منفی 6.6 فیصد پر آ گئے اور اوپن انٹرسٹ 1.9 ارب ڈالر کی کمی کے ساتھ 10.1 ارب ڈالر تک گر گئی۔ 10x ریسرچ نے کہا کہ جو ‘سیلرز’ اس وقت ذمہ دار ٹھہرائے جا رہے ہیں وہ اصل فروخت کا بنیادی سبب نہیں ہیں، اور اصل فروخت کہیں اور سے ہو رہی ہے جس کا اثر مارکیٹ کی مستقبل کی پوزیشننگ پر پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance