بٹ کوائن کے ایک سکے کی قیمت ایک ملین ڈالر تک پہنچنے کا تصور بہت سے سرمایہ کاروں کے لیے غیر حقیقی لگتا ہے، مگر ایک معروف سرمایہ کاری ماہر نے اس خیال کو مسترد کیا ہے۔ میٹ ہوگان، جو کہ ایک بڑی سرمایہ کاری کمپنی کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر ہیں، کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت کے حوالے سے اکثر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں کیونکہ لوگ اس اثاثے کی قدر کو سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بٹ کوائن ایک ابھرتا ہوا اسٹور آف ویلیو ہے جو سونے کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے۔ موجودہ عالمی اسٹور آف ویلیو مارکیٹ کی قیمت تقریباً 38 ٹریلین ڈالر ہے، جس میں سے سونا تقریباً 36 ٹریلین ڈالر کا حصہ رکھتا ہے جبکہ بٹ کوائن کا حصہ تقریباً 1.4 ٹریلین ڈالر ہے۔
میٹ ہوگان کے مطابق، اگر عالمی اسٹور آف ویلیو مارکیٹ اگلے دس سالوں میں 121 ٹریلین ڈالر تک بڑھ جاتی ہے اور بٹ کوائن اس مارکیٹ کا 17 فیصد حصہ حاصل کر لیتا ہے، تو اس کی قیمت ایک ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی غیر حقیقی نہیں کیونکہ بٹ کوائن کی قبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر امریکی سپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کے آغاز کے بعد۔
یہ پیش رفت مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور اعتماد میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، جو مستقبل میں بٹ کوائن کی قیمت کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور عالمی معاشی حالات کے اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine