یوکرین نے بحیرۂ اسود میں روس سے وابستہ نہ ہونے والے بعض تیل بردار جہازوں اور قازقستان کی خام تیل برآمدات سے متعلق اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد تجارتی جہازرانی اور توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا ہے۔
یوکرین نے کمرشل شپنگ کمپنیوں کے لیے ایک رابطہ مرکز بھی قائم کیا ہے، جہاں جہازرانی سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں گی اور محفوظ گزرگاہ کے انتظام میں مدد ملے گی۔ قازقستان کی تیل برآمدات بڑی حد تک بحیرۂ اسود کے راستوں پر منحصر ہیں، اس لیے کسی بھی حملے یا سکیورٹی خدشے سے ترسیل، انشورنس اخراجات اور عالمی خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
یہ پیش رفت بحیرۂ اسود میں محفوظ نیوی گیشن اور تجارتی جہازوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے سے متعلق وسیع تر سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ تاہم معاہدے پر عمل درآمد، رابطہ نظام کی مؤثریت اور روس، یوکرین یا کسی غیر ریاستی فریق کی ممکنہ خلاف ورزی آئندہ خطرات رہیں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance