امریکی سیکرٹری خارجہ روبیو نے حال ہی میں ہاؤس اپروپری ایشنز کمیٹی کی سماعت کے دوران ایران کے خلاف ‘ایپک فیوری’ فوجی آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران امریکہ نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو خاصا نقصان پہنچا۔ تاہم، روبیو نے بتایا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ ڈرون اور بحری جنگی صلاحیتیں باقی ہیں۔ اس اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو عالمی مارکیٹوں اور خطے کی سلامتی کے لیے مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اس فیصلے سے امریکہ اور ایران کے درمیان مستقبل میں ممکنہ مذاکرات کے دروازے کھل سکتے ہیں، جبکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی یہ ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ فوجی کارروائیاں ختم ہو گئی ہیں، لیکن سیاسی اور اقتصادی اثرات ابھی بھی خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance