امریکی فیڈرل ریزرو کی ٹریژری سیکیورٹیز کی ملکیت چار اعشاریہ چار ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو جولائی 2024 کے بعد سب سے بلند ترین سطح ہے۔ اس وقت فیڈرل ریزرو کے بیلنس شیٹ پر کل اثاثے چھ اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس اضافے کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی بینک نے مالیاتی مارکیٹ میں اپنی مداخلت کو بڑھایا ہے، جس کا مقصد معاشی استحکام کو یقینی بنانا اور مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے رجحانات پر اثر پڑ سکتا ہے اور مالیاتی پالیسی کی سمت پر بھی روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔ آئندہ مہینوں میں، اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس کے اثرات شرح سود اور مہنگائی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے صارفین اور کاروباری اداروں کی مالی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء کو اس صورتحال پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ وہ ممکنہ تبدیلیوں کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance