ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ پولیمارکیٹ کے پانچ منٹ کے بٹ کوائن معاہدے نے دولت کی منتقلی کا ایک ذریعہ بن کر کام کیا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے رقم ریٹیل بیٹرز سے لے کر چند ماہرینِ مارکیٹ میں منتقل ہوئی، جس سے بٹ کوائن کی قیمت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ یہ معاہدہ اس وقت شروع ہوا جب پولیمارکیٹ نے ایک بائنری معاہدہ متعارف کرایا جو ہر پانچ منٹ میں بٹ کوائن کی قیمت کے اوپن اور کلوز کے درمیان فرق پر مبنی تھا۔ اس معاہدے میں جیتنے کے لیے قیمت کا کلوز اوپن سے زیادہ ہونا ضروری تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اس معاہدے کی قیمت کا تعین چین لنک اوریکل کے ذریعے ہوتا تھا جو مختلف بڑے اسپوٹ ایکسچینجز کی قیمتوں کا اوسط نکالتا تھا۔ تاہم، ایک تاجر آخری سیکنڈز میں حقیقی بٹ کوائن خرید یا فروخت کر کے اس قیمت کو اپنی مرضی کے مطابق متاثر کر سکتا تھا، جس سے وہ معاہدہ جیت سکتا تھا۔
تحقیق کے مطابق، صرف 821 تاجروں نے اس دھوکہ دہی میں حصہ لیا، جو کل تاجروں کا ایک چھوٹا حصہ تھا، اور انہوں نے تقریباً 8.2 ملین ڈالر کا منافع حاصل کیا۔ اس کے برعکس، زیادہ تر نقصان ریٹیل سرمایہ کاروں کو ہوا۔ یہ دھوکہ دہی خاص طور پر ان اوقات میں زیادہ نمایاں تھی جب مارکیٹ کا رجحان غیر یقینی ہوتا تھا۔
اس مسئلے کا حل معاہدے کی مدت میں توسیع ہے، جیسا کہ پندرہ منٹ کے معاہدے میں یہ دھوکہ دہی کم دیکھی گئی، کیونکہ زیادہ طویل مدت میں قیمت پر اثر انداز ہونا مشکل ہوتا ہے۔ اس تحقیق سے مارکیٹ کی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine