دو اور دس سالہ ٹریژری ییلڈز نے بارہ ماہ کی بلند ترین سطح حاصل کر لی

امریکی دو اور دس سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈز نے حال ہی میں بارہ ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے، جو مالیاتی مارکیٹوں میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی ییلڈ کا اثر مختلف اثاثوں پر مختلف انداز میں پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسیاں اور سونا جیسی روایتی محفوظ سرمایہ کاریوں کو اس سے منفی اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی ییلڈز سرمایہ کاروں کو زیادہ محفوظ اور منافع بخش آپشنز کی طرف راغب کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، ٹوکنائزڈ ٹریژری مارکیٹس کو اس صورتحال سے فائدہ پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ ان کی قیمتوں میں استحکام اور طلب میں اضافہ متوقع ہے۔ بٹ کوائن کی قیمتیں ابھی بھی اپنی 200 روزہ اوسط سے نیچے ہیں، جو کہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی علامت ہے۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ییلڈز میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو یہ کرپٹو مارکیٹ میں مزید دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ مستقبل قریب میں، مالیاتی پالیسیاں اور عالمی اقتصادی حالات اس رجحان کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: