ایک معروف حکمت عملی نے حال ہی میں 1.18 ارب ڈالر کی ترجیحی اسٹاک کی پیشکش کی ہے، جو تقریباً 16,800 بٹ کوائن کے برابر ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اپنے فنڈنگ ماڈل میں تبدیلی لا رہی ہے اور عام اسٹاک سے ہٹ کر ترجیحی اسٹاک کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ڈیویڈنڈ کی ذمہ داریوں کا ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنا ہے، جو کمپنی کی مالیاتی ساخت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس تبدیلی کا فوری اثر مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد اور کمپنی کی مالیاتی پوزیشن پر پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار اس نئی حکمت عملی کو کمپنی کی مالیاتی استحکام کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، جبکہ مستقبل میں اس سے کمپنی کی سرمایہ کاری کی صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔ تاہم، اس تبدیلی کے ساتھ کچھ خطرات بھی وابستہ ہیں، جیسے کہ ترجیحی اسٹاک ہولڈرز کی ترجیحات اور کمپنی کی نقد بہاؤ پر اثرات۔ مجموعی طور پر، یہ اقدام کمپنی کے فنڈنگ ماڈل میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو مستقبل میں اس کی مالیاتی حکمت عملی کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk