اسٹریٹیجی کے چیف ایگزیکٹو فونگ لی نے کہا ہے کہ مندی کے بازار میں بہت سے ادارہ جاتی سرمایہ کار بٹ کوائن کے بجائے نقد رقم کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کمپنی نے یہ فرض کیا تھا کہ سرمایہ کار بٹ کوائن کو ایسا اثاثہ سمجھتے ہیں جو سالانہ تقریباً 30 فیصد بڑھ سکتا ہے اور مکمل طور پر قابلِ فروخت رہتا ہے، تاہم حالیہ مارکیٹ رویے نے اس مفروضے کو محدود ثابت کیا ہے۔
لی نے کہا کہ بٹ کوائن اور ڈی فائی سے وابستہ سرمایہ کاروں کے علاوہ ادارے عموماً چھ ماہ کے قلیل مدتی فنڈز مختص کرتے ہیں، اس لیے وہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران نقد ذخائر اور ادائیگیوں کے تسلسل کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹریٹیجی کے پاس تقریباً 2.7 سال کے منافع کی ادائیگی کے لیے کوریج اور 4.75 ارب ڈالر نقد موجود ہیں۔ لی کے مطابق وہ ذاتی طور پر بٹ کوائن رکھنا پسند کریں گے، مگر کمپنی کو اپنے آپریشنز، منافع اور مالی ذمہ داریوں کے لیے نقد برقرار رکھنا ضروری ہے۔ یہ حکمت عملی ادارہ جاتی اعتماد، ممکنہ سرمایہ کاری اور بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش ظاہر کرتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance