امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ متضاد پالیسی اشاروں نے عالمی مالیاتی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے۔ ایس ای بی کے چیف اکنامسٹ جینس میگنسن کے مطابق، مختلف اہم معاملات پر ٹرمپ کے متضاد بیانات اور اقدامات نے سرمایہ کاروں میں الجھن پیدا کر دی ہے۔ مثال کے طور پر، جنگ بندی کے معاہدے باری باری نافذ اور ناکام ہوتے رہے، مذاکرات کبھی جاری اور کبھی معطل ہوتے رہے، اور ہرمز کی تنگی کے حوالے سے بندش اور کھولنے کے فیصلے بھی بار بار تبدیل ہوتے رہے۔ اس کے علاوہ، شپنگ پر عائد ٹیکسوں کے حوالے سے بھی متضاد صورتحال رہی ہے جس نے عالمی تجارت کو متاثر کیا ہے۔ یہ تمام واقعات چند دنوں کے اندر پیش آئے ہیں جس سے مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ ٹرمپ کے متوقع قومی خطاب میں مختلف موضوعات پر بات چیت متوقع ہے جو مستقبل میں مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ صورتحال چیلنجنگ ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال کے باعث فیصلے مشکل ہو رہے ہیں اور ممکنہ طور پر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance