ڈوئچے بینک نے اعلان کیا ہے کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ کا اہم انڈیکس نیسڈیک اصلاحی زون میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ فیڈرل ریزرو کے غیر واضح اشارے ہیں جنہوں نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کی اور مارکیٹ میں فروخت کا رجحان بڑھا دیا۔ فیڈرل ریزرو نے شرح سود کو برقرار رکھا ہے لیکن چیئر وارش کی جانب سے محدود تفصیلات نے امریکی خزانے کی ییلڈ کرون میں تیزی پیدا کی ہے، جس سے 30 سالہ بانڈ کی ییلڈ 5.20 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا قائم کر دی ہے۔ اس کا فوری اثر یہ ہوا کہ نیسڈیک میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ آئندہ کے لیے ممکنہ خطرات میں شرح سود میں مزید تبدیلیاں اور عالمی معاشی حالات شامل ہیں جو مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance