اسٹریٹجی کمپنی کی بٹ کوائن حکمت عملی میں تبدیلی اور مارکیٹ پر اثرات

اسٹریٹجی کمپنی، جو بٹ کوائن کی سب سے بڑی کارپوریٹ ہولڈر ہے، نے حالیہ مالی دباؤ کے باوجود اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 60,000 ڈالر کے قریب ہے جو اس کی بلند ترین سطح سے تقریباً 50 فیصد کم ہے۔ کمپنی نے اپنی متغیر شرح اسٹریچ پریفرڈ اسٹاک (STRC) کے ذریعے سرمایہ کاری کی مالی معاونت کی ہے، جس کی قیمت حال ہی میں 100 ڈالر سے گر کر تقریباً 70 ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجی نے STRC ڈیویڈنڈ کو 12 فیصد تک بڑھایا اور 2 ارب ڈالر کے بائیک بیک پروگرام کی منظوری دی، جس سے اسٹاک کی قیمت میں بہتری آئی ہے۔

اس تبدیلی نے کمپنی کی سابقہ "کبھی نہ بیچنے” والی پالیسی کو بدل کر "حکمت عملی کے تحت بٹ کوائن بیچنے” کی طرف مڑ دیا ہے۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں لیکویڈیشن کے خوف کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ تاہم، کمپنی کے لیے کم مارکیٹ ملٹیپلز کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں مزید حصص جاری کر کے بٹ کوائن خریدنے کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔

مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے دوران، اسٹریٹجی کی یہ حکمت عملی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے کہ کمپنی اپنی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، بٹ کوائن کی قیمت پر امریکی ڈالر اور دیگر عالمی مالیاتی عوامل کا بھی اثر پڑ رہا ہے، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مستقبل میں، اگر عالمی مالیاتی حالات مستحکم رہے تو بٹ کوائن کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، لیکن سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

شئیر کیجیے: