روس کی جولائی میں خام تیل اور گیس کنڈینسیٹ کی مشترکہ پیداوار جون کے مقابلے میں یومیہ تقریباً ایک لاکھ بیرل بڑھ کر نو ملین بیرل سے تجاوز کر گئی۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی منڈی روسی سپلائی، اوپیک پلس کی پالیسی اور پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
پیداوار میں اضافے سے روس کی برآمدی گنجائش اور تیل کی عالمی رسد پر عارضی طور پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے، تاہم حقیقی مارکیٹ اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اضافی حجم میں سے کتنا تیل برآمد کیا جاتا ہے اور کتنا ملکی ریفائنریوں میں استعمال ہوتا ہے۔ روسی خام تیل کی ترسیل پابندیوں، شپنگ لاگت اور خریداروں کی دستیابی سے بھی متاثر رہ سکتی ہے۔
مارکیٹ کے شرکا اب روس کے آئندہ ماہ کے پیداواری اعداد، برآمدی بہاؤ اور اوپیک پلس اہداف سے مطابقت پر توجہ دیں گے۔ اگر اضافہ برقرار رہتا ہے تو سپلائی کے خدشات میں کمی آ سکتی ہے، جبکہ پیداوار میں دوبارہ رکاوٹ عالمی قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance