ایک آزاد محقق نے کوانٹم کمپیوٹنگ کے ذریعے بٹ کوائن کی بنیادی ٹیکنالوجی پر ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ جیانکارلو لیلی نے ایک 15-بٹ ایلیپٹک کرو کی کو عوامی طور پر دستیاب کوانٹم ہارڈویئر پر توڑ کر ایک بڑا تجربہ کیا ہے، جو گزشتہ سال ستمبر میں کی گئی پبلک ڈیمونسٹریشن سے 512 گنا زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہ پیش رفت بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز کی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتی ہے۔ اس کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی طاقت بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں کرپٹو کرنسیز کی حفاظت کے لیے نئے حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ میں اس خبر نے کچھ تشویش پیدا کی ہے کہ کوانٹم ہیکنگ کے ذریعے ڈیجیٹل کرنسیز کی سیکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ ابتدائی مرحلہ ہے اور مکمل خطرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔ آئندہ برسوں میں کوانٹم کمپیوٹنگ کے میدان میں مزید ترقیوں کے ساتھ کرپٹو سیکورٹی کے لیے نئے معیارات اور پروٹوکولز متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk