عوامی طور پر لسٹڈ بٹ کوائن مائننگ کمپنیوں کی جانب سے سکے فروخت کیے جانے سے کرپٹو مارکیٹ میں تقریباً 1.78 ارب ڈالر کا اضافی فروختی دباؤ پیدا ہوا ہے۔ یہ گروپ عموماً سرمایہ کاروں کی توجہ سے اوجھل رہتا ہے، تاہم اس کی فروخت مارکیٹ کے حاشیے پر دستیاب رسد میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
مائنرز اپنی بجلی، آپریٹنگ اخراجات، قرضوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے پیدا ہونے والے بٹ کوائن کا کچھ حصہ فروخت کرتے ہیں۔ قیمتوں میں کمزوری یا مائننگ منافع میں کمی کے دوران یہ فروخت بڑھ سکتی ہے، جبکہ بعض کمپنیاں اپنے کاروباری ڈھانچے کو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی جانب منتقل کرنے کے لیے بھی ذخائر استعمال کر رہی ہیں۔
مارکیٹ کے لیے فوری اثر یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں بٹ کوائن کی اضافی رسد سامنے آ رہی ہے جب طلب، ایکسچینج سرگرمی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی سمت پہلے ہی اہم عوامل ہیں۔ سرمایہ کار اب عوامی مائنرز کے ماہانہ بٹ کوائن ذخائر، فروخت اور نقدی کی صورتحال پر زیادہ نظر رکھیں گے۔ مسلسل فروخت قیمتوں کی بحالی کو محدود کر سکتی ہے، جبکہ بہتر قیمتیں یا مائننگ منافع میں اضافہ اس دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk