تیل کی قیمتیں دس ماہ کی سب سے طویل مسلسل کمی کی طرف گامزن ہیں کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک معاہدے کی توقعات بڑھ گئی ہیں جس کے تحت ہرمز کی تنگی کو دوبارہ کھولا جائے گا۔ اس معاہدے سے عالمی تیل کی فراہمی میں اضافہ متوقع ہے جو کہ عالمی خام تیل کی مارکیٹ کو نرم کر سکتا ہے۔ اس صورتحال سے تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بھی پائی جاتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر یہ معاہدہ عمل میں آتا ہے تو عالمی تیل کی فراہمی میں اضافہ ہو گا جس سے قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے، تاہم سیاسی اور جغرافیائی عوامل اس عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مارکیٹ کے شرکاء کو مستقبل میں قیمتوں کی مزید اتار چڑھاؤ کا سامنا رہ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance