تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ تاجر امریکہ کے ایران پر دوبارہ حملوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان حملوں کی محدود نوعیت کی وجہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ خلیج فارس کے ذریعے توانائی کی ترسیل جلد از جلد اپنی حالیہ بحالی کی طرف لوٹے گی۔ توانائی کے شعبے کے ماہر لیسلی پالٹی-گوزمین نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کشیدگی کے دوران توانائی کے منظرنامے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس صورتحال کا فوری اثر عالمی مارکیٹوں پر توانائی کی فراہمی کی تسلسل پر پڑ سکتا ہے، جس سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ اگر کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں جو عالمی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں مارکیٹ میں محتاط امید کی جا رہی ہے کہ خلیج فارس کے راستے توانائی کی ترسیل معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance