بٹ کوائن اور سونا ایک ساتھ گر رہے ہیں، شرح سود میں اضافے کا اثر ہر ہیج پر پڑ رہا ہے

بٹ کوائن اور سونا ایک نایاب صورتحال میں ایک ساتھ گر رہے ہیں، جو عام طور پر نہیں ہوتا۔ بٹ کوائن کی قیمت بدھ کو تقریباً 61,233 ڈالر تھی جو گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 فیصد اور ہفتے کے دوران تقریباً 7 فیصد کم ہوئی، جبکہ سونا 2 فیصد گر کر 4,200 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گیا۔ دونوں اثاثے اس وقت ایک ہی بنیادی کمزوری کا شکار ہیں کیونکہ یہ کوئی منافع نہیں دیتے اور بڑھتی ہوئی شرح سود مارکیٹ میں ان کی قدر کو متاثر کر رہی ہے۔

مئی کے صارف قیمت اشاریہ (CPI) کے اعداد و شمار کے مطابق، سالانہ بنیاد پر 4.2 فیصد اضافہ ہوا جو توقعات کے مطابق تھا۔ ماہانہ بنیاد پر کور CPI 0.2 فیصد رہا جو متوقع 0.3 فیصد سے کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی زیادہ تر توانائی کے شعبے تک محدود ہے۔ اس رپورٹ کے بعد بٹ کوائن نے اپنی کمی کو کم کر کے تقریباً 61,400 ڈالر پر پہنچا لیا۔

کور CPI کی اچھی کارکردگی نے اس بدترین صورتحال کو ختم کر دیا جہاں مہنگائی کے پھیلاؤ سے فیڈرل ریزرو کو جون کے اجلاس میں سخت پالیسی اپنانا پڑتی، تاہم یہ ساختی شرح سود میں اضافے کے خدشات کو ختم نہیں کرتا۔

مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی وجہ شارٹ سکویز تھی، جس میں 500 ملین ڈالر سے زائد کے بیئرش بیٹس ختم ہوئے، لیکن اس کے باوجود حقیقی خریداری کی کمی رہی۔ اس کے نتیجے میں، بٹ کوائن کی قیمت میں استحکام نہیں آیا اور مارکیٹ میں محتاط رویہ دیکھا گیا۔

مجموعی طور پر، کرپٹو اور ایکویٹی مارکیٹس میں تعلق مضبوط ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ایشیا پیسیفک کے اسٹاک انڈیکسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس دوران، تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

سونا اور بٹ کوائن دونوں کا ایک ساتھ گرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شرح سود میں اضافے کا اثر مہنگائی کے دباؤ سے زیادہ غالب آ رہا ہے، جس سے دونوں اثاثوں کی ہیجنگ کی خصوصیات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے اور مستقبل میں شرح سود کی پالیسیوں پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

شئیر کیجیے: