فرانسیسی صدر ایما نیول میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی تعیناتی میں تبدیلی کرے گا۔ یہ فیصلہ علاقائی صورتحال میں مثبت پیش رفت اور بدلتی ہوئی ضروریات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ فرانس نے اس خطے میں مائن کلیرنگ فورسز تعینات کی ہیں جن میں دو مائن ہنٹرز، دو فریگیٹس اور ایک میری ٹائم پیٹرول طیارہ شامل ہیں۔ یہ فورسز شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر ہرمز کے تنگ راستے میں نیویگیشن کو مکمل طور پر بحال کرنے اور سمندری ٹریفک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں۔
میکرون نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں دستخط شدہ مفاہمت نامہ علاقائی استحکام کی طرف ایک اہم قدم ہے اور ہرمز کے تنگ راستے میں آزادی بحری جہاز رانی کی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے عمان کے سلطان کے ساتھ تعمیری بات چیت کے بعد فرانس کے رویے میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، جس میں طیارہ بردار جہاز چارلس ڈی گال کو واپس اپنے ہوم پورٹ ٹولون بھیجنا شامل ہے، جبکہ مائن کلیرنگ فورسز اور ان کے اسکورٹس کو تعینات رکھنا شامل ہے۔
یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے اور علاقائی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ اس تبدیلی سے سمندری راستوں کی حفاظت میں بہتری آئے گی اور علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ ملے گا۔ مستقبل میں اس خطے میں مزید تعاون اور استحکام کے امکانات روشن نظر آتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance