جے پی مورگن نے حال ہی میں کہا ہے کہ ڈی فائی (مرکزی غیر مالیاتی) سیکٹر میں مسلسل سیکیورٹی خامیاں اس کے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے کشش کو محدود کر رہی ہیں۔ ایک حالیہ واقعے میں، کیلپ ڈی اے او کے خلاف 20 ارب ڈالر کے نقصانات نے اس شعبے میں نظامی خطرات کو اجاگر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایتھیریم کی قیمت میں استحکام اور اسٹیل کوائنز کی جانب منتقلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی فائی میں ابھی بھی کمزوری برقرار ہے۔ یہ عوامل ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی محتاط رویے کی وجہ بن رہے ہیں اور مارکیٹ کی ترقی کو محدود کر رہے ہیں۔ مستقبل میں، اگر سیکیورٹی کے مسائل حل نہ کیے گئے تو یہ شعبہ مزید سرمایہ کاری کھونے کا خطرہ رکھتا ہے، جس سے ڈی فائی کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ میں استحکام کے لیے بہتر حفاظتی اقدامات اور شفافیت کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk