ایرانی صدر پیزشکیان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران بیرونی دباؤ، ظلم و جبر اور جارحیت کے خلاف اپنی مزاحمت پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور بین الاقوامی چیلنجز کے باوجود اس کا عزم کمزور نہیں ہوا۔ پیزشکیان نے کہا کہ ایران نے ماضی میں بھی ایسے دباؤ کا مقابلہ کیا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی کرے گا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران خطے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔ اس قسم کے بیانات خطے کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور عالمی سطح پر ایران کے تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ مارکیٹ اور صارفین کے لیے یہ صورتحال غیر یقینی کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جو ایران کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں۔ مستقبل میں اس خطے میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے جو عالمی معیشت اور سلامتی کے لیے اہم چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance