بھارت میں قلیل مدتی بانڈز کی مارکیٹ میں حالیہ تیزی ممکنہ طور پر کمزور ہو سکتی ہے کیونکہ ریزرو بینک آف انڈیا مالیاتی نظام سے اضافی نقدی نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا تھا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ نقدی کی واپسی سے قلیل مدتی قرضوں کی طلب پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، جب مرکزی بینک مالیاتی نظام سے لیکویڈیٹی کم کرتا ہے تو اس سے بانڈز کی قیمتوں میں کمی اور شرح سود میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے اور قلیل مدتی بانڈز کی کارکردگی غیر یقینی ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں، اگر ریزرو بینک نے لیکویڈیٹی نکالنے کا عمل جاری رکھا تو یہ بانڈ مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جس سے مالیاتی مارکیٹ میں استحکام کے لیے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance