بھارت کے دوسرے بڑے فنڈ مینیجر نے بینکوں، تیل کی ریفائنریز، پاور یوٹیلٹیز اور دوا ساز کمپنیوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی مالیاتی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود مقامی طلب کے مثبت رجحانات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ان شعبوں کو ایسے مواقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ یہ سیکٹرز ملکی معیشت کی مضبوطی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کے باعث مارکیٹ میں خطرات بھی موجود ہیں، لیکن فنڈ مینیجر کا ماننا ہے کہ مقامی سطح پر کام کرنے والی کمپنیاں ان چیلنجز کا مقابلہ بہتر طریقے سے کر سکیں گی۔ اس فیصلے کا فوری اثر یہ ہو سکتا ہے کہ سرمایہ کار ان سیکٹرز کی جانب توجہ مرکوز کریں گے، جس سے ان کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام یا اضافہ متوقع ہے۔ مستقبل میں، عالمی تیل کی قیمتوں میں تبدیلیاں اور مقامی اقتصادی حالات اس حکمت عملی کی کامیابی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance