بحیرہ اسود میں ایک یونانی تیل بردار جہاز کو مبینہ طور پر پروجیکٹائل یا ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز روس کی جانب روانہ تھا۔ یونان کی شپنگ وزارت نے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ اس واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس حملے کے بعد سمندری راستوں کی سلامتی پر گہرا اثر پڑا ہے اور بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یونانی حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور حملے کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس واقعے سے خطے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں اور عالمی تجارت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں اس قسم کے حملوں کے بڑھنے کا خطرہ موجود ہے جو سمندری نقل و حمل کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance