عالمی سطح پر اٹھائیس بینکوں نے بلاک چین پر مبنی تصفیہ کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ٹوکنائزڈ رقم کا تجربہ کیا ہے۔ اس تجربے میں جے پی مورگن، سٹی اور یو بی ایس جیسے بڑے مالیاتی ادارے شامل تھے جنہوں نے ایک ملین ڈالر کی رقم کو حقیقی وقت میں منتقل کیا۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی لین دین کو زیادہ تیز، محفوظ اور شفاف بنانا ہے۔ اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی روایتی بینکنگ نظام میں جدت لا سکتی ہے اور کراس بارڈر ادائیگیوں کی پیچیدگیوں کو کم کر سکتی ہے۔ مارکیٹ کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے مالیاتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور لاگت میں کمی متوقع ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے تجربات سے عالمی مالیاتی نظام میں مزید شفافیت اور تیز رفتاری آ سکتی ہے، تاہم تکنیکی اور ریگولیٹری چیلنجز بھی موجود ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk