ایران کے دعوے کے باوجود ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری

Crypto-urdu News

ہرمز کی تنگی کے ذریعے لاکھوں بیرل تیل کا بہاؤ اس ہفتے کے آخر میں بھی جاری رہا، حالانکہ ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اس پانی کے راستے کو بند کر دیا ہے۔ یہ پانی کا راستہ دنیا کے سب سے اہم شپنگ پوائنٹس میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ واشنگٹن اور تہران نے اس حوالے سے مختلف بیانات دیے ہیں، جن میں دونوں طرف سے صورتحال کی مختلف تصویر پیش کی گئی ہے۔ اس تنازعے نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب کیے ہیں اور سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ تیل کی ترسیل جاری ہے، لیکن اس خطے میں کشیدگی کے باعث آئندہ دنوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ عالمی معیشت پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حوالے سے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

ٹیگز:
شئیر کیجیے: