ابھرتی ہوئی ایشیا کی مرکزی بینک اپنی کرنسیوں کو سہارا دینے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر خرچ کرنے کے بجائے مختلف پالیسی اقدامات پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ خطے میں مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی اور امریکا میں شرحِ سود طویل مدت تک بلند رہنے کے خدشات نے کرنسی مارکیٹوں پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔
ان حالات میں بعض مرکزی بینکوں نے زبانی اشاروں، مقامی مالیاتی منڈی میں مداخلت، شرحِ سود سے متعلق پالیسی اور دیگر انتظامی ذرائع کے ذریعے اتار چڑھاؤ محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد درآمدی مہنگائی کو قابو میں رکھنا، سرمایہ کے اچانک اخراج کو روکنا اور قیمتی ذخائر محفوظ رکھنا ہے۔
تاہم، اگر ڈالر مضبوط رہا یا جغرافیائی سیاسی خطرات میں اضافہ ہوا تو ان اقدامات کی مؤثریت آزمائش میں آ سکتی ہے۔ مرکزی بینک آئندہ کرنسی مارکیٹ، افراطِ زر، تیل کی قیمتوں اور امریکی مالیاتی پالیسی کے اثرات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance