پانچ سال قبل، ایل سلواڈور کی کانگریس نے دنیا کا پہلا بٹ کوائن قانون منظور کیا، جس کے تحت بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کا درجہ دیا گیا۔ اس چھوٹے وسطی امریکی ملک نے اس اقدام سے بٹ کوائن کو سرکاری سطح پر قبول کرنے والا پہلا ملک بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اب، پانچ سال بعد، حکومت کے پاس تقریباً 7,677 بٹ کوائن موجود ہیں جن کی مالیت تقریباً 480 ملین ڈالر ہے اور وہ اب بھی بٹ کوائن خریدنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
صدر نایب بوکیلے نے نومبر 2022 میں روزانہ ایک بٹ کوائن خریدنے کی حکمت عملی اپنائی، جس کے تحت گزشتہ سال کے دوران ملک نے 1,600 سے زائد بٹ کوائنز خریدے۔ تاہم، جنوری 2025 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے قرض کے تحت بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کا لازمی درجہ ختم کر دیا گیا، جس کے بعد کاروباروں پر بٹ کوائن قبول کرنا لازم نہیں رہا اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ چیوو والیٹ کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود، حکومت نے اپنے ذخیرے میں موجود کسی بھی بٹ کوائن کو فروخت نہیں کیا اور وہ اب بھی کرنسی کے طور پر بٹ کوائن کے استعمال کی اجازت دیتی ہے۔ ایل سلواڈور نے بٹ کوائن پر کوئی سرمایہ کاری ٹیکس نہیں لگایا، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک بٹ کوائن کی حمایت میں مزید اقدامات کر رہا ہے، جن میں بٹ کوائن سے منسلک بانڈز اور جیو تھرمل توانائی سے چلنے والا بٹ کوائن سٹی منصوبہ شامل ہیں۔
اگرچہ ریمیٹنس کی مد میں بٹ کوائن کا حصہ ابھی بہت کم ہے، لیکن ایل سلواڈور کی یہ حکمت عملی عالمی مالیاتی منڈیوں میں بٹ کوائن کے استعمال اور قبولیت کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ مستقبل میں، اس ملک کی بٹ کوائن پالیسیز عالمی مالیاتی منظرنامے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine