فیڈرل ریزرو نے اپنی معاشی پیش گوئیوں میں اہم تبدیلیاں کی ہیں جن میں اس سال کے لیے جی ڈی پی کی نمو کی توقعات کم کی گئی ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح کے حوالے سے بھی نظر ثانی کی گئی ہے۔ اس کے برعکس، صارفین کی قیمتوں میں اضافے (PCE) اور بنیادی PCE مہنگائی کی شرح کے تخمینے اگلے سال کے لیے نمایاں طور پر بڑھا دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، فیڈرل ریزرو نے اگلے تین سالوں کے دوران وفاقی فنڈز کی شرح سود میں اضافے کی توقع ظاہر کی ہے۔ یہ تبدیلیاں معاشی پالیسی میں سختی کی جانب اشارہ کرتی ہیں جس کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے۔ مارکیٹ پر فوری اثرات میں شرح سود میں اضافے کی وجہ سے قرض لینے کی لاگت میں اضافہ اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں ممکنہ کمی شامل ہے۔ آئندہ مہینوں میں یہ اقدامات معیشت کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں، جس سے ملازمتوں کی صورتحال اور صارفین کی خریداری کی طاقت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، شرح سود میں اضافے سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملنے کی توقع ہے، جو طویل مدتی اقتصادی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance