فیڈرل ریزرو کے چیئر کیون وارش کی کم بول چال اور غیر واضح بیانات نے سرمایہ کاروں میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے ان کے عزم پر شک پیدا کر دیا ہے۔ بدھ کو اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں وارش نے شرح سود بڑھانے کے حوالے سے واضح موقف اختیار نہیں کیا، جس کے باعث جے پی مورگن چیس کے ماہرین نے شرح سود میں اضافے کی پیش گوئی دسمبر تک کر دی ہے، جو پہلے 2027 کے دوسرے نصف میں متوقع تھی۔ اس غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ میں مندی کا رجحان پیدا کیا اور طویل مدتی بانڈز کی پیداوار تقریباً دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ وارش نے کہا کہ مارکیٹ کی سخت صورتحال خود فیڈرل ریزرو کے کام کر رہی ہے، تاہم تین ارکان پہلے ہی شرح سود میں اضافے کے حق میں اختلاف رائے دے چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی میں خاطر خواہ کمی نہ آئی تو ستمبر میں شرح سود میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے، اور وارش کو کمیٹی کی قیادت پر عمل کرنا پڑے گا۔ اس صورتحال نے مالیاتی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے اور سرمایہ کاروں کی توجہ فیڈ کی آئندہ پالیسیوں کی جانب مرکوز کر دی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance