امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں حالیہ ہفتے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث تین ہفتوں کی نازک جنگ بندی ختم ہو گئی ہے۔ خلیج فارس کے اہم سمندری راستے، اسٹریٹ آف ہرمز میں جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے، جس سے عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اس دوران ثالثی کے عمل کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا گیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ آئندہ ہفتے امریکی صارف قیمت اشاریہ (CPI) کے اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے اعلیٰ حکام کے بیانات وال اسٹریٹ کی صورتحال پر گہرا اثر ڈالیں گے۔ خاص طور پر فیڈ چیئر کےون وارش کی کانگریس میں پیشی پر مارکیٹ کی نظریں مرکوز ہیں، جہاں وہ شرح سود کے مستقبل کے حوالے سے اشارے دے سکتے ہیں، تاہم ان کی جانب سے مستقبل کی رہنمائی چھوڑنے کے اعلان نے توقعات کو محدود کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی بینکوں کی آمدنی کا سیزن اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے، جو مالیاتی مارکیٹ کے لیے اہم ہے۔ مجموعی طور پر، یہ عوامل عالمی معیشت اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مزید کشیدگی عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance