چین میں صنعتی اور صارف قیمتوں میں اضافے کی رفتار میں کمی آئی ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران جنگ کے بعد عالمی تیل منڈی میں آنے والے جھٹکے کا اثر بتدریج کم ہو رہا ہے۔ پیداواری قیمتوں کی مہنگائی جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ سست ہوئی، جبکہ صارف قیمتوں میں بھی پہلے کے مقابلے میں کم اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
توانائی کی بلند قیمتوں نے چین کی توانائی پر منحصر صنعتوں، خام مال اور نقل و حمل کے اخراجات کو بڑھایا تھا۔ تاہم، تیل کی قیمتوں میں دباؤ کم ہونے سے فیکٹریوں کے پیداواری اخراجات میں اضافے کی رفتار محدود ہوئی ہے۔
یہ اعدادوشمار چینی معیشت میں قیمتوں کے دباؤ کے حوالے سے نسبتاً اطمینان بخش اشارہ دیتے ہیں، مگر کمزور داخلی طلب اور کاروباری اعتماد بدستور اہم خطرات ہیں۔ اگر تیل کی عالمی رسد مزید مستحکم رہی تو افراطِ زر کا دباؤ مزید کم ہو سکتا ہے، جبکہ جنگ میں دوبارہ شدت توانائی اور درآمدی لاگت کو بڑھا سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance