بٹریفِل پر سائبر حملہ، شمالی کوریا کے لازارس گروپ کا شبہ

بٹریفِل، جو ایک معروف کرپٹو ای کامرس پلیٹ فارم ہے، نے حال ہی میں ایک سائبر حملے کا انکشاف کیا ہے جس کے نتیجے میں کمپنی کے کچھ فنڈز چوری ہو گئے اور صارفین کے محدود ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوئی۔ حملے کی شروعات ایک ملازم کے کمپیوٹر کے ذریعے ہوئی، جس سے حملہ آوروں نے اندرونی نظام تک رسائی حاصل کی اور کمپنی کے ہاٹ والٹس سے رقم نکال لی۔ کمپنی نے نقصان کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں لیکن کہا ہے کہ وہ اپنے آپریشنل کیپٹل سے نقصان کو برداشت کرے گی۔

حملے کی نشاندہی غیر معمولی خریداری کے پیٹرنز اور سپلائرز کی سرگرمیوں میں انوملیز سے ہوئی۔ اس واقعے کے بعد بٹریفِل نے اپنی سروسز کو عارضی طور پر بند کر کے صورتحال کو قابو میں کیا اور اب خدمات معمول پر آ چکی ہیں۔ تقریباً 18,500 خریداری کے ریکارڈز تک رسائی حاصل ہوئی جن میں ای میل ایڈریسز اور کرپٹو ادائیگی کے پتے شامل ہیں۔

کمپنی نے واضح کیا کہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا کم سے کم محفوظ کیا جاتا ہے اور زیادہ تر لین دین کے لیے کے وائی سی لازمی نہیں ہے۔ اس حملے کے پیچھے شمالی کوریا کے لازارس گروپ کے ملوث ہونے کے واضح شواہد ملے ہیں، جنہوں نے ماضی میں بڑے کرپٹو چوری کے واقعات میں حصہ لیا ہے۔

یہ واقعہ ریاستی سطح پر سپانسر کیے گئے سائبر خطرات کی بڑھتی ہوئی تشویش کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے میں۔ بٹریفِل نے اپنی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں سے بچا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: