بٹ کوائن کی قیمت دو ہفتوں کی بلند ترین سطح سے گر کر تقریباً 64,500 ڈالر پر آ گئی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ کھلے مفادات میں کمی اور کمزور فوری طلب کو قرار دیا جا رہا ہے، جس نے جولائی میں 8.4 فیصد کی تیزی کی رفتار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلے مفادات میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم ہو رہی ہے، جو قیمتوں کی مزید بڑھوتری کے لیے ایک منفی علامت ہو سکتی ہے۔ صارفین اور سرمایہ کار اس صورتحال کو غور سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ ممکنہ طور پر بٹ کوائن کی قیمت میں استحکام کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ آئندہ دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا طلب میں اضافہ ہوتا ہے یا مزید کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی مالیاتی حالات اور کرپٹو مارکیٹ کے دیگر عوامل بھی بٹ کوائن کی قیمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کی تبدیلیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اچانک اتار چڑھاؤ سے بچ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk