ایران میں کشیدگی کے باعث بٹ کوائن کی قیمت میں تیزی سے 3.5 فیصد کمی

بٹ کوائن نے حال ہی میں تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح $74,000 تک پہنچ کر سرمایہ کاروں میں خوشگواری کی لہر دوڑائی تھی، تاہم مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی فوجی سرگرمیوں کی خبروں کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قیمت میں تیزی سے 3.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی اور یہ قیمت $71,000 کے قریب آ گئی۔ یہ واقعہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں خطرے کی سطح کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے جذبات پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

ایران میں جاری کشیدگی کی وجہ سے جیوپولیٹیکل خطرات میں اضافہ ہوا ہے جس نے کرپٹو کرنسیوں کے لیے لیکوئڈیٹی اور ریگولیٹری خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ اس قسم کی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال عالمی سرمایہ کاری کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر ان اثاثوں میں جو زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتے ہیں جیسے کہ بٹ کوائن۔ اس کے علاوہ، ادارہ جاتی سرمایہ کار بھی اس طرح کے حالات میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں سرمایہ کی روانی محدود ہو جاتی ہے۔ اس صورت حال نے مارکیٹ کے عمومی جذبات کو منفی انداز میں متاثر کیا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

مزید برآں، اس قسم کے جیوپولیٹیکل تناؤ سے عالمی مالیاتی نظام میں نظامی خطرات بڑھ سکتے ہیں، جو کہ کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نہ صرف انفرادی سرمایہ کاروں بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ یہ مارکیٹ کی سالمیت اور استحکام پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس لیے، ایران میں کشیدگی اور اس کے نتیجے میں امریکی فوجی اقدامات نے کرپٹو مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا پیدا کی ہے جو مستقبل میں بھی مارکیٹ کی سمت اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: