بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ دنوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو چار دنوں کی مسلسل گراوٹ کا باعث بنی ہے۔ عالمی سطح پر سب سے بڑی کرپٹو کرنسی نے اپنے حالیہ بلند ترین مقام 82,000 ڈالر سے تقریباً 5,000 ڈالر کی کمی دیکھی ہے اور اس وقت قیمت تقریباً 76,900 ڈالر کے قریب ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں میکرو اکنامک مشکلات، ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں کمی، اور آن چین میٹرکس شامل ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ بحالی پچھلے بل سائیکل کی طرح مضبوط سرمایہ کاری کی حمایت نہیں رکھتی۔
پچھلے ہفتے سے بٹ کوائن ای ٹی ایف سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم نکالی گئی ہے، جس میں خاص طور پر بلیک راک کے IBIT ای ٹی ایف سے سب سے زیادہ رقم نکالی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ کی مجموعی سرمایہ کاری میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، جس سے کرپٹو مارکیٹ کی کل مالیت میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحالی کا رجحان سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے غیر مستحکم ہے اور یہ مارکیٹ کو مزید غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ مالیاتی جھٹکوں کے لیے حساس بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے میں جاری تنازعات بھی عالمی مالیاتی مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، بٹ کوائن کی قیمت میں یہ کمی اور سرمایہ کاری کی روانی میں کمی مارکیٹ کے لیے چیلنجز پیدا کر رہی ہے اور آئندہ دنوں میں صورتحال کی مزید نگرانی ضروری ہوگی تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine