بٹ کوائن کی قیمت 62,000 ڈالر سے نیچے گر گئی، مہینوں کی بحالی ختم

بٹ کوائن کی قیمت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے اور یہ 62,000 ڈالر سے نیچے گر گئی ہے، جس سے مہینوں کی بحالی کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ اس زوال کی بنیادی وجوہات میں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کا مارکیٹ سے نکلنا، قرض کی لیکویڈیشن، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اور مائیکل سیلر کی کمپنی کی جانب سے بٹ کوائن کی غیر معمولی فروخت شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 8 فیصد کی کمی کے ساتھ 61,463 ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ اس کی حالیہ بلند ترین سطح سے کافی نیچے ہے۔ اس صورتحال نے مارکیٹ میں بے یقینی اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے، خاص طور پر جب امریکی اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نے بھی بٹ کوائن کی طلب کو متاثر کیا ہے۔ مستقبل میں، اگر یہ رجحانات جاری رہے تو بٹ کوائن کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے، اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

شئیر کیجیے: