امریکی فضائی حملوں اور چین و امریکہ کشیدگی کے باعث بٹ کوائن کی قیمت میں کمی

بٹ کوائن کی قیمت امریکہ اور ایران کے درمیان فضائی حملوں اور امریکہ اور چین کے سیاسی تنازع کے باعث 63,000 ڈالر سے نیچے گر گئی ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو خطرے والے اثاثوں سے دور کر دیا ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت 62,800 ڈالر کے قریب تجارت کر رہی ہے، جو گزشتہ دن کی قیمت سے کم ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی مارکیٹس میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس میں جاپان، ہانگ کانگ اور شنگھائی کے اسٹاک مارکیٹس شامل ہیں۔ ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں امریکی فضائی حملوں نے پانچ پلوں کو نشانہ بنایا جبکہ چابہار بندرگاہ پر بھی میزائل حملہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جو مہنگائی اور شرح سود کے خدشات کو بڑھاتا ہے۔ واشنگٹن میں بھی سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے جہاں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مداخلت کے الزامات عائد کیے ہیں، جسے چین نے مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مارکیٹ کی صورتحال بنیادی طور پر معاشی عوامل کی عکاسی کرتی ہے نہ کہ جغرافیائی سیاسی خدشات کی۔ امریکی مہنگائی کی شرح میں کمی اور فیڈرل ریزرو کی ممکنہ شرح سود میں نرمی کے امکانات نے مارکیٹ کو کچھ حد تک سہارا دیا ہے۔ اس کے علاوہ، بٹ کوائن کے بڑے سرمایہ کاروں نے حالیہ بحران کے دوران اپنی پوزیشنز برقرار رکھی ہیں، جس سے مارکیٹ میں استحکام کے آثار نظر آتے ہیں۔ آئندہ ہفتوں میں امریکی فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے اجلاس کے نتائج مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: