بٹ کوائن کی قیمت نے حالیہ دنوں میں نمایاں بحالی کا مظاہرہ کیا ہے، جو کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے اور معروف سرمایہ کاروں کے مثبت اشاروں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ جون کے آغاز میں بٹ کوائن کی قیمت کمزور ہو کر 59,000 ڈالر تک گر گئی تھی، جو اکتوبر 2024 کے بعد سب سے کم سطح تھی۔ تاہم، ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے نے خلیج ہرمز کی بندش کو ختم کیا، جس سے تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ اس پیش رفت نے بٹ کوائن سمیت دیگر خطرے والے اثاثوں کی قیمتوں کو سہارا دیا۔
اس دوران، مائیکل سیلور کی کمپنی نے بٹ کوائن میں مزید سرمایہ کاری کی، جس سے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کوائن بیس کے سی ای او برائن آرمسٹرانگ نے بھی مارکیٹ کے ممکنہ کف کی نشاندہی کی، اگرچہ انہوں نے احتیاط برتی کہ مکمل یقین کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔ اس صورتحال نے مارکیٹ میں اعتماد کی بحالی کی امید پیدا کی ہے، جبکہ سرمایہ کار محتاط انداز میں مزید سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
اگرچہ ریٹیل سرمایہ کاروں میں ابھی بھی احتیاط پائی جاتی ہے، لیکن ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی سرگرمیاں اور جغرافیائی سیاسی استحکام بٹ کوائن کی قیمت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں، اگر عالمی سیاسی حالات مستحکم رہے اور مالیاتی پالیسیاں سازگار رہیں تو بٹ کوائن کی قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے، تاہم عالمی معیشت میں کسی بھی غیر متوقع تبدیلی سے مارکیٹ متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine