بٹ کوائن نے 2026 کے پہلے اور دوسرے سہ ماہی میں کمی دیکھی، جو اس کی تاریخ میں صرف تیسری بار ہے جب سال کا آغاز اس طرح مندی کے ساتھ ہوا ہو۔ اس سے پہلے 2018 اور 2022 میں بھی بٹ کوائن نے سال کے پہلے نصف حصے میں نقصان اٹھایا تھا، اور ان دونوں مواقع پر دوسرے نصف حصے میں بھی کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ بٹ کوائن کی قیمتوں میں مسلسل کمی نے مارکیٹ کی صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اس مندی کے اثرات نہ صرف کرپٹو کرنسی کے صارفین پر پڑ رہے ہیں بلکہ اس سے متعلقہ مارکیٹوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بٹ کوائن کی قیمتیں اسی طرح گرتی رہیں تو یہ کرپٹو مارکیٹ کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم، کچھ سرمایہ کار اس مندی کو خریداری کے مواقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مستقبل میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی معاشی حالات اور کرپٹو کرنسی کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk